وقت کتنی تیزی سے بھاگتا ہے اس کا اندازہ خاص طور پر آج ہورہا ہے۔ ابھی ایک سال پہلے کی بات ہے جب میں اپنی سالگرہ منا رہا تھا اور آج یہ دن پھر موجود ہے۔ اس ایک سال میں بہت کچھ بدل گیا کچھ لوگ ترقی کرگئے اور جن کا کوئی خاص پلان نہیں تھا وہ وہیں کے وہیں ہیں۔
ایسے موقع پر ہم اکثر عجیب کشمکش میں رہتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا اس دن کو بھر پور طریقے سے انجوائے کریں یا اپنی زندگی کا ایک سال کم ہونے پر افسوس۔ ۔ ۔
میرے خیال میں ہمیں اپنی زندگی کا پلان بنانا چاہیے اپنے گزرے وقت کو چیک کریں اس دوران کتنا وقت ہم نے بلاوجہ ضائع کردیا ہے اور کتنا وقت لوگوں کی مدد کی اس گزرے ایک سال میں کیا کچھ کھویا اور کیا پایا، پھر آنے والے نئے سال کا پلان ہو اس کو کیسے گزارنا ہے۔ اصل زندگی کا مزہ ہی اسی میں ہے کہ کسی منصوبہ بندی سے جیا جائے نہ کہ اپنے آپ کو دنیا کے حوالے کردیا جائے۔ میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ:
“ہر انسان کی زندگی کو کوئی نہ کوئی ضرور چلاتا ہے۔ یا تو وہ خود یا پھر دنیا والے ۔ ۔ ۔اب یہ بندے پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر جہاں جانا چاہے جاتا ہے یا پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر ادھر ادھر کے نظارے کرکے فضول وقت ضائع کردیتاہے۔“
دوسری قسم کا دنیا میں آنا نہ آنا ایک برابر ہے یہ بھی کوئی لائف ہے دنیا میں کمایا، کھایا اور اسی دوران جب فرشتہ آیا تو چل دیئے۔ ۔ ۔ ۔ پیدا ہونا اور مرنا یہ دونوں چیزیں انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتیں لیکن پیدا ہونے کے بعد اور مرنے سے پہلے تک کا وقت کیسے گزارا جائے یہ سب خود انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس لیے زندگی کا پلان بنانا ضروری ہوتا ہے۔ میں خود پہلے بغیر کسی پلان کے زندگی گزار رہا تھا لیکن جب اس چیز کا شعور ہوا تو اپنا ایک لائف پلان بنایا اس لائف پلان کو کئی حصوں میں تقسیم کیا تھا جس کا پہلا حصہ اس سال مکمل ہوگیا۔ جس پر قریباً مکمل عمل کیا اور اب اُمید ہے آئندہ سال کے اہداف بھی پورے کرلوں گا۔
اس تھیم کو خاص طور پر آج کے دن کے لیے اُردو میں ڈھالا ہے۔ نئے سال کا آغاز ہے تو کچھ نیا بھی ہونا چاہیے۔ اس پر محنت بہت ہوئی یا شاید نو آموز ہونے کی وجہ سے مجھے محسوس ہوتی ہے۔ اس سے پہلے بھی دو تین تھیمز کو خراب کرچکا ہوں ان میں کبھی کوئی مسئلہ ہوجاتا ہے اور کبھی کچھ مسئلہ اب یہ بالکل ٹھیک لگ رہی ہے۔ اُمید ہے اب کی بار محنت ضائع نہیں جائے گی۔ اس تھیم کے ہیڈر پر تھیم بنانے والے نے اپنا لوگو بنایا ہوا تھا یہ تو اچھا ہوا اس نے ساتھ میں ایڈوبی کی فائل بھی رکھی تھی جس کے ذریعے میں نے اپنا لوگو بنا کر لگا دیا کوئی محنت نہیں ہوئی۔ فوٹر میں تھیم میکر کا لوگو ویسے ہی رہنے دیا آخر اس نے بھی محنت کرکے تھیم ڈیزائن کی ہے اس کا اتنا تو حق بنتا ہے کہ لوگو اور لنک رہنے دئیے جائیں۔ اُردو ایڈیٹر میں کوئی مسئلہ ہے یہ بلاگ کے کسی بھی حصے میں نہیں چل رہا اسے دیکھ لیتا ہوں۔ باقی اگر کوئی اور مسئلہ آپ دوست دیکھیں تو ضرور آگاہ کیجیے گا۔
ریحان نے میری پوسٹ ایک جھٹکا پر تبصرے میں ایک دلچسپ ویڈیو کلپ کا لنک پیش کیا تھا ان کا وہ لنک اور تبصرہ کسی وجہ سے منظر پر نہ آسکا اسے میں یہاں شئیر کررہا ہوں.
ہمارے گھر کے آدھے حصے کی لائٹ خراب ہوگئی ہے جس سے کچھ کمروں کی لائٹ چلتی اور کچھ نہیں یسا پہلے بھی ہوجاتا ہے وائرنگ بہت پرانی ہے نا اس لیے، ہم آخری کمرہ جہاں سے آگے لائٹ بند ہو اس کا بورڈ کھول کر خود ہی دیکھ لیتے ہیں جو بھی مسلئہ ہو ٹھیک ہوجاتا ہے. عموماً میں بجلی کا کوئی کام نہیں کرتا لیکن اس بار بھائی کے گھر پر نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ہی دیکھنا پڑا نتیجہ وہی انگلش کا مقولہ:
A little knowledge is Dangerous
پلاس سے ایک تار چھیل رہا تھا کہ پتا نہیں کیسے میرا ہاتھ پلاس کے ننگے حصے کو ٹچ ہوگیا ہے ایک چھوٹا سا جھٹکا لگا اور پھر بس کچھ بھی نہیں.
میں سوچ رہا ہوں آخر بجلی کیا چیز ہے جو نظر بھی نہیں آتی اور ذرا سی بے احتیاطی اچھے بھلے بندے کو ہلا کر رکھ دیتی ہے، اگر وولٹیج زیادہ آرہے ہوں تو یہ صرف بندے کو ہلاتی ہی نہیں بلکہ اُوپر بھی پہنچا دیتی ہے. اس لیے احتیاط ہی کیجئیے جان ہے تو مزید تجربات کرسکتے ہیں نہیں تو چھٹی. . . .
جس کا کام اسی کاو ساجھے
بھائی نے رات کو آکر دو منٹ میں لائٹ ٹھیک کردی، کوئی بڑا مسلئہ نہیں تھا.
میری پچھلی پوسٹ کراچی بلاگر میٹ اپ پر کچھ تکنیکی خرابی کی وجہ سے تبصرے بند ہوگئے تھے، میں نے اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی لیکن میں نہ تو اپنے بلاگ پر لاگ ان ہوسکا اور نہ ہی اپنے ہوسٹنگ اکاؤنٹ میں۔ میں سمجھتا رہا شاید سرور پر کوئی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے تبصرے بند ہوئے ہیں اور اب لاگ ان بھی نہیں ہورہا۔ اب میں اپنی میلز چیک کرنے لگا تو اس میں بھی لاگ ان نہیں ہوپارہا تھا، تو تھوڑی بہت تشویش ہوئی اور اپنے براؤزر کی سیٹنگ دیکھی تو کوکیز کو کسی نے ڈس ایبل کیا ہوا تھا، جس کی وجہ سے یہ سب مسئلہ ہورہا تھا۔ اب یہ ٹھیک ہوگیا ہے اور تبصرے بھی صیحیح کردئیے ہیں جو صاحب میری کراچی بلاگر میٹ اپ والی پوسٹ پر کوئی تبصرہ دینا چاہے وہ جلدی سے وہاں آجائے اور اپنی رائے سے ہمیں ضرور نوازے۔
ہاں جی کراچی بلاگر میٹ اپ یہ بلاگر میٹ اپ کا احوال ہے نہ کہ کسی آنے والی کانفرنس کا۔ تو دوستوں کہانی کچھ اس طرح ہے کہ ایک عدد اردو بلاگر کی میٹنگ رکھی گئی ہم اس کو میٹنگ ہی کہیں گے کیونکہ بیچارے اردو بلاگر ہے ہی اتنے سے کہ انگلیوں کے بغیر بھی گنے جاسکتے ہیں۔ میں شروع سے بتاتا ہوں میں اس میں کیسے شامل ہوا۔
کل صبح میں دوکان پر جانے سے پہلے اپنے لیے نیا چشمہ پسند کررہا تھا کہ ایک گرمی کی شدت دوسرا دوکان سے دیر ہونے کی ٹینشن اور پھر دوکاندار مجھے جو چشمے دکھا رہا تھا اسے کہہ کہہ کے تھک گیا بھائی اس کے علاوہ کوئی اور اسٹائل دکھاؤ لیکن وہ پھر وہی اسٹائل۔ ۔ ۔ ایسے میں موبائل کی گھنٹی بجی میں نے موبائل دیکھا تو کسی نئے نمبر سے میسج تھا کھولنے پر پتا چلا کراچی میں بلاگر میٹ اپ کا کوئی پروگرام رکھا گیا ہے تو میں نے میسج پورا پڑھے بغیر پھر فارغ وقت میں پڑھنے کا سوچ کر موبائل کو جیب میں رکھ لیا اور اپنے کام میں لگ گیا۔ سارا دن کام سے تھکا رات کو سونے کے لیے بستر پر لیٹا تو میسج کا یاد آیا اور فوراً اس میسج کو پڑھا تو وہ کچھ اس طرح تھا کہ:
کراچی بلاگر میٹ اپ
وقت: دوپہر دوبجے
تاریخ: 2009-06-07
ایٹ: شعیب صفدر کے آفس میں اکھٹے ہورہے ہیں۔
میسج بھیجنے والے عمار تھے اب میں ان کو کال کررہا ہوں شعیب کے آفس کا ایڈریس معلوم کرنے کے لیے لیکن صاحب موبائل آف کرکے پتا نہیں کیا کررہے تھے۔ ان کے علاوہ میرے پاس کسی اور کا رابطہ نمبر بھی نہیں تھا۔ خیر ان کے نمبر پر میسج چھوڑا اور بے فکر ہو کر سوگیا صبح تک کوئی ریپلائی آہی جائے گا۔ صبح ریپلائی کیا آنا تھا موبائل پھر آف جارہا تھا۔ یہ تو اچھا ہوا وکیل صاحب نے اپنا نمبر اپنے بلاگ پر دیا ہوا ہے ورنہ میں تو رہ جاتا۔اور کسی اور کے ہاتھوں لکھی ہوئی اس طرحکی پوسٹ پڑھ رہا ہوتا۔
تو اب آتے ہیں اصل مقصد کی طرف میں وکیل صاحب سے ایڈریس معلوم کرکے مقررہ وقت پر پہنچا تو ابوشامل وہاں باقی دوستوںکا انتظار کررہے تھے۔ حال احوال پوچھنے کے بعد شعیب کو کسی کا فون آگیا اور ابوشامل سے میری کچھ گفتگو ہوئی کہ میں بلاگنگ کی طرف کس طرح آیا اب پابندی سے کیوں نہیں لکھتا وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔انھوں نے کچھ ٹپس بھی دیں بلاگ پر باقاعدگی کے ساتھ لکھنے کی۔
باقی دوستوں نے زیادہ انتظار نہیںکروایا وہ پہلے باہر کہیں ہوٹل پر اکھٹے ہوئے اور پھر ابوشامل کو فون کیا تو ابوشامل اور شعیب ان کو لیکر دفتر میں آئے تو یہ تین صاحب تھے ایک عمار ان کو تو میں اچھی طرح جانتا ہوں، دوسرے ایک اور نئے ہی صاحب تھے جن کو میں نے پہلی بار دیکھا اور تیسرے مہمان ایسے تھے کہ ان کو میں نے پہلے بھی دیکھا ہوا تھا لیکن اب کی بار دیکھ کر پریشان ہوگیا کہ آخری بار جب ان سے ملاقات ہوئی تو یہ اچھے بھلے تھے لیکن اب انہیں کیا ہوگیا ہے۔ اصل میں یہ ان کا قصور نہیں تھا یہ قصور تھا میٹنگ رکھنے والے صاحبان کا جنھوں نے شدید گرمی میں دوپہر دو بجے اتنی دور میٹنگ رکھی۔ گرمی نے انکی مت نہیں ماری ہوئی تھی بلکہ گرمی سے بیچنے کے لیے انھوں نے اپنی مت خود مار لی تھی، مطلب سر پر رومال لیپٹا ہوا باقی بچا کچھا چہرے پر آرہا تھا۔ آفس پہنچنےکہ بعد جب یہ رومال سے باہر آئے اور تھوڑی ہوا کھائی تو معلوم ہوا یہ اپنے فہیم ہیں (جب میں پہنچا تھا تو شاید میری بھی کچھ ایسی ہی حالت ہورہی تھی مزید روشنی وکیل صاحب ڈالیں گے اور اس کے گواہ ہونگے ابو شامل)۔
دوسرے صاحب کا تو میں نے نام ہی نہیں بتایا چلو اب بتاتا ہوں ان سے ملنے سے پہلے میں سمجھتا تھا کوئی مولوی بندہ ہوگا لمبی ڈاڑھی ہوگی شلوار ٹخنوں سے اوپر، لیکن یہ سب کچھ اُلٹا نکلا۔ یہ مصری اسٹائل کے ٹو پیس میں ملبوس تھے ہمارے مکی بھائی (تالیاں) میرے خیال سے تعارف کچھ زیادہ ہی لمبا ہوگیا ہے اس کو یہیں روکتا ہوں۔ پروگرام کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لیے اگلا پیرا گراف پر دیکھیے۔ ۔ ۔ ۔
اس ملاقات میں جن اہم پوائنٹس پر بات ہوئی وہ کچھ یہ تھے۔
1-اردو سی ڈی بنانے کے لیے ابو شامل نے ایک لسٹ تیار کی تھی اور نظرثانی کے لیے عمار کو دی تھی ہاں دی تھی جو تاحال ایک نظر کرم کی منتظر ہے اُمید ہے عمار آج کی ملاقات کے بعد اس پر نظر ضرور ڈالیں گے۔
2- یہ سی ڈی کن کن مراحل سے گزر کر مکمل تیار ہوگی ؟ اس کا فائنل ٹچ کیسا ہوگا؟ اخراجات کتنے آئے گے؟ اس کو مارکیٹ میں کیسے لانا ہے؟ اور اس سی ڈی کا تعارف ہر بندے سے کیسے کروانا ہے؟ (تعارف مطلب ڈیمانڈ کیسے بڑھانی ہے؟ کمائی کے لیے نہیں اردو کو ترقی دینے کے لیے)
3- مکی بھائی کے اردو سلیکس والے ڈیسک ٹاپ پر بھی بات ہوئی جس کا انھوں نے حال ہی میں اردو ترجمہ کرکے ڈاؤنلوڈنگ کے لیے پیش کیا ہے۔ ان سب کی باتوں سے لگ رہا تھا لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا ہے۔ لینکس کی زیادہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے میں اچھے بچوں کی طرح خاموش ہی رہا۔
4- میں نے مکی بھائی سے اپنا ایک مسئلہ ڈسکس کیا جو مجھے لینکس پر نیٹ یوز کرنے پر ہورہا تھا یہی مسئلہ فہیم کا بھی تھا مکی نے دلچسپی سے سنا اور فہیم کو کچھ تکنیکی طور پر سمجھایا ہے اور اس کی سمجھ میں بھی آگیا ہے اگر تو یہ اس طرح حل ہوگیا ٹھیک نہیں تو مکی خود ہمارا نیٹ چیک کرک%