بولو رام

بولو رام انڈین مووی ہے ابھی نئی آئی ہے. ویسے بہت اچھی مووی ہے جس میں ماں بیٹے کی محبت دکھائی گئی ہے لیکن آخرمیں ہندو اپنی تنگ نظری دکھا ہی گیا.
کہانی کچھ اس طرح کی ہے کہ رام کی ماں کا کوئی مرڈر کر جاتا ہے اور الزام رام پر لگ جاتا ہے باقی ساری مووی میں تحقیق دکھائی گئی جو بہت اچھا طریقہ ہے لیکن بالکل آخر میں ہندو نے اپنی تنگ نظری کا مظاہرہ کردیا ایک ڈائیلاگ جو سین اور کہانی کے لحاظ سے سو فیصد غلط تھا زبردستی ٹھوک دیا ہے. “ماں ہر قوم سے بڑھ کر ہوتی ہے” ویسے تو یہ ڈائیلاگ اچھا ہے لیکن مووی دیکھئے پھر پتا چلے گا اچھا ہے یا نہیں. ویسے میں موویز نہیں دیکھتا ان میں ہمیشہ مسلمز کو نیچ حرکتیں کرتے ہوئے ہی دکھایا جاتا ہے یا لَو(love) اسٹوری ہوتی ہے رئیلٹی سے بالکل ہٹ کر. یہ مووی بھائی نے لگائی تھی اسٹارٹ اور کہانی اچھی لگی دیکھنے بیٹھ گیا لیکن لاسٹ موڈ بالکل خراب کردیا. مزید اس کے بارے میں جاننے کے لیے اپنے دو گھنٹے ضائع کریں.

سنڈے اخبار میں ایڈز

سب دوستوں کو سلام،

ہر اتوار کو جنگ اخبار میں ڈھیروں ایڈز ہوتے ہیں ڈیٹا انٹری کریں اور گھر بیٹھے ہزاروں کمائیں جن میں کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ بندہ ان سے رابطہ کرتا ہے یہ بندے کی مختلف پیکجز میں رجسٹریشن کرتے ہیں جو ساڑے چار ہزار سے لے کر دس پندرہ ہزار تک ہوتی ہے پھر یہ لوگ ویب دیتے ہیں اور اس میں بس اینٹریاں کرنی ہوتی ہیں جس کے پیکج سے حساب سے دس پندرہ ہزار منتھلی دیتے ہیں.

مختصر یہ کہ کیا کسی بندے کو ایسے ایڈز کا اچھا یا برا تجربہ ہے ؟؟
یا پھر
ان کے بارے میں صیحیح حقیقت کہ کونسی اینٹریاں کرنی ہوتی ہیں اور یہ کمپنیاں کیسی ہیں مطلب انکم کے چانسز کیا ہیں ؟؟؟؟

شیطان فرشتوں کا سردار

کچھ دن پہلے میں نے یہ پوسٹ شیطان کی تین صفات لکھی تھی جس میں شیطان کو فرشتوں کا سردار لکھا تھا۔ اس کے تبصروں میں انکل اجمل اور عبدالقدوس نے شیطان کا فرشتوں‌ کا سردار ہونے کی تصدیق چاہی ، جو حاضر ہے۔ یہ حوالہ جات مجھے اسی وقت ہی مل گئے تھے لیکن بس انھیں پوسٹ کرنے میں تھوڑی تاخیر ہوئی۔

تفسیر ابن کسیر سے:

تفسیر ابن کسیر میں سورہ کہف کی آیت نمبر 50 کی تفسیر کے ذیل میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ ابلیس کا نام عزازیل تھا اور وہ آسمانِ دنیا کا سردار اور جنت اور حزائن کا چوکیدار تھا۔ اور تمام فرشتوں میں عبادت اور علم میں بڑھا ہوا تھا۔

تاریخ طبری سے:

اس کتاب کے مورخ علامہ ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (923ءـ839ء) ہیں۔ اسے “تاریخ الرسل والملوک” اور “تاریخ الامم والملوک” بھی کہا جاتا ہے ، لیکن عرف عام میں یہ “تاریخ طبری” کے نام سے مشہور ہے۔ علامہ طبری نے اس تاریخ میں کن فیکون سے لے کر المقتدربااللہ کے مفصل حالات لکھے ہیں۔ اس تاریخ میں علامہ طبری نے ضروری مواد تحریرات اور زبانی روایات سے جمع کیا تھا، جن کی فراہمی کے لئے انہیں‌ اسلامی دنیا کے علمی مراکز میں اپنی طویل سیرو سیاحت میں خاصے مواقع ملے۔اس کتاب کی جلد اول میں شیطان کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں۔

ابلیس جن تھا یا فرشتہ ؟
اس سلسلے میں ابن جریح سے مروی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ابلیس فرشتوں کے سرداروں میں شامل تھا۔وہ قبیلہ کے اعتبار سے ان میں سب سے زیادہ ممتاز بلکہ بہشت کے باغات پر نگران تھا۔ اس کے لیے آسمانی دنیا اور زمین پر بادشاہت تھی۔

ملائکہ کا ہمارے ساتھ گزرا وقت

ستارہ دسمبر کو میرے بڑے بھائی کی بیٹی ہوئی اور تین دن بعد ہی وہ ہمیں چھوڑ کر اگلی دنیا کو سدھار گئی۔اس کی پیدائش ہم سب گھر والوں کے لیے انتہائی خوشی کا باعث تھی کیونکہ وہ ہمارے گھر کی پہلی رونق تھی اور دوسرے الفاظ میں ہماری اگلی نسل کی پہلی سیڑھی بھی۔ اس کی آمد پر ہمیں جتنی خوشی تھی اُتنا ہی رنج بھی ہوا ۔یہ اس کا رنج ہی تھا کہ مجھے شعروشاعری کی الف ب بھی نہیں آتی لیکن پھر بھی ایک نظم لکھ ماری وہ یہاں ہے۔
ان تین دن میں اس نے جو وقت ہمارے ساتھ گزارا میں اسے کبھی بھلا نہیں سکتا۔اسی گزرے ہوئے وقت کے کچھ لمحات کو یہاں لگھ رہا ہوں۔

/17/12/2008
شام پانچ بجے بھاےئی نے فون پر اطلاع دی کہ اللہ نے اسے پھول سی بیٹی دی ہے۔ رات کو ہم دوکان بند کرکے سیدھا ہسپتال پہنچے اور اپنی بھتیجی کو سینے سے لگا لیا۔ کافی دیر وہاں بیٹھے رہنے کے بعد گھر آگئے اور ایک فنکشن میں جانے کی تیاریاں کرنے لگے۔ رات وہاں سے ایک بجے واپسی ہوئی اور فوراً کمپیوٹر آن کرکے انٹرنیٹ پر لڑکیوں کے ناموں میں سے اپنی پیاری سی بھتیجی کے لیے پیارا سا نام ڈھونڈھنے لگے اس کام میں تین بج گئے اور نام کی ایک لمبی لسٹ لکھ کر نیٹ آف کیا ارر سو گیا صبح پھر جلدی اُٹھنا تھا اور اپنی بھتیجی کے پاس بھی تو جانا ہے۔

18/12/2008
صبح اُٹھنے میں دیر ہوگئی جس کی وجہ ابو نے ہسپتال جانے سے منع کر دیا کہ آج دیر ہوگئی ہے سیدھا دوکان پر جاؤ اور شام کو ہسپتال جانا لیکن میں ضد کرکے پہلے بھتیجی کو دیکھنے گئے آخر اسے کے بغیر کسی طرح‌چین ہی نہیں آرہا تھا۔ سارا دن دوست احباب مٹھائی کا اصرار کرتے رہے اور ہم وعدے۔
رات کو پھر دوکان سے سیدھا ہسپتال پہنچے اور بھتیجی کو جی بھر کے دیکھا اس وقت کئی حیرت انگیز انکشافات ہوئے مثلاً عام بچوں کے ہاتھ بند ہوتے ہیں جیسے مٹھی بنائی ہو لیکن اس کے ہاتھ بالکل کھولے تھے دوسرا یہ کہ عموماً بچوں کی آنکھوں سے پانی نکلتا رہتا ہے لیکن نہ اس کی آنکھوں سے پانی نکلا اور نہ ہی منہ سے رال ٹپکہ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی آنکھیں بلو شیڈ‌ دے رہی تھیں۔

19/12/2008
آج جمعہ ہے صبح ہسپتال نہ جاسکا رات کو دوکان سے واپسی پربارش ہو رہی تھی اور مجھے سردی بھی لگ رہی تھی اس لیے ہسپتال جانے کا پروگرام کینسل کردیا۔ گھر آتے ہوئے ایک جگہ پر ٹریفک جام تھی تو رحیم نے گاڑی اندر گلیوں سے لے لی جب ہم میں روڈ پر دوبارہ نکلے تو وہ ہسپتال کے بالکل سامنے سے گزرا میں وہیں پر اُتر گیا۔آج گڑیا سوئی ہوئی تھی اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ اٹھی نہیں سوئی رہی آج اس کا چہرہ بالکل صاف ہوگیا تھا وہ انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی اس کا نام ملاتکہ فائنل کردیا۔ ہم جلدی گھر آگئے آج پھر ایک شادی میں جانا تھا گھر آکر تیاری کی اور شادی پر چلے گئے وہاں سے رات کو دو بجے واپسی ہوئی۔ ڈاکٹرز نے کہاتھا کہ صبح چھوٹی ہوجائے گی اس لیے ہم رات کو تین بجے تک بیٹھے اسے گھر لانے اور اس کے آنے پر جو جو خوشیاں منانیں تھیں اس کا پروگرام بناتے رہے۔ پھر سوگئے۔

20/12/2008
صبح چھ بجے فجر کی اذانیں ہورہی تھیں کہ بھائی کا فون آگیا ملائکہ کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے امی کو جلدی ہسپتال بھیجو، امی نے کہا میں نماز پڑھ کر جاتی ہوں ابھی امی نے وضو ہی کیا تھا کہ بھائی کا پھر فون آگیا گڑیا فوت ہوگئی۔
بھائی سے تفصیل پوچھی کہ اسے ہوا کیا تھا تو اس نے کہا رات کو ساڑھے تین بجے ہم دونوں اس کے ساتھ کھلتے رہے پھر وہ سو گئی اور ہم بھی سوگئے پھر صبح اذانیں ہوئی تو بھائی نماز کے لیے اُٹھ گیااسنے گڑیا کو دیکھا تو اس نے کوئی حرکت نہیں کی بھائی نے غور سے دیکھا تو وہ ہمیں چھوڑ اگلے جہاں جانے کی تیاری میں تھی اس کا سانس رک رہا تھا بھائی فوراً اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا انھوں نے دیکھا تو کہا یہ فوت ہوگئی ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں اس کا رنگ نیلا ہوگیا ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اسے ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ بھابھی کا پہلے ذہن بنایا پھر بتایا لیکن پھر بھی وہ سنبھالی نہیں جارہی تھیں۔ امی فوراً ملائکہ کو گھر لے آئیں تاکہ بھابھی کو سنبھالا جاسکے۔ پھر گڑیا کو گھر لا کر کفن پہنایا اور گیارہ بجے اسے رخصت کردیا۔

میری بھتیجی

اسلام علیکم،
تو میں بھی ایک مرتبہ آن لائن آگیا ہوں۔ اگرچہ اس بلا؛گ کو سیٹ کرنے میں کافی مشکل ہوئی ہے۔ لیکن پھر کر ہی لیا ہے۔ کیا کیا مشکلات آئیں اور کیوں آئیں یہ سب یہاں شئیر کروں گالیکن تھوڑا وقت لگے گا۔ کیونکہ آج کل میں کچھ مصروف ہوں ۔
اتنے دن نیٹ سے بھی غائب رہا اور جب آن لائن بھی ہوا تو بلاگ کی گڑبڑ کو ہی ٹھیک کرنے میں وقت لگ جاتا۔
اب آن لائن آہی گیا ہوں تو آپ سب دوستوں سے اپنی ایک خوشی شیئر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ میں چچا بن گیا ہوں مطلب میرے بڑے بھائی کی بیٹی ہوئی ہے۔ ہمارے سب گھر والے بہت زیادہ خوش ہیں کیونکہ یہ ہمارے گھر کی پہلی رونق ہے۔ آپ سب دوستوں سے اس کی حق میں دعاؤں کی درخواست ہے۔

ہم سب نے نام سوچ سوچ کر اتنے نام جمع کرلیے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آتا کونسا رکھیں۔اب آپ دوست ہی اس بارے میں کوئی اچھا مشورہ دیں۔